جہلم

جہلم پولیس نے باہمی تلخ کلامی پر گرفتار ایک خاندان کے نوجوانوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

جہلم: تھانہ سٹی میں نیا قانون، مجاہد آباد میں باہمی تلخ کلامی پر گرفتار ایک خاندان کے نوجوانوں کو مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، ہم کو دوسری پارٹی نے دس ہزار روپے تشدد کرنے کے دئیے ہیں آپ دوسری پارٹی کو لتر پڑوانا چاہتے ہیں تو پندرہ ہزار دیں تھانہ سٹی اہلکاروں کا تشدد کے شکار خاندان کو ’’مفت مشورہ ‘‘ بعد ازاں نذرانہ لے کر دونوں پارٹیوں کو چھوڑ دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ سٹی جہلم نے گرفتار ملزمان پر تشد د کرنے کیلئے ریٹ مقر رکردیا ہے اگر مخالف فریق پر تشدد کروانا ہے تو زیادہ رقم دیں۔ گزشتہ روز محلہ مجاہد آباد جہلم میں راجہ حسیب اور واجد کے درمیان معمولی تلخ کلامی کے بعد مبینہ طور پر پولیس تھانہ سٹی کے اہلکار راجہ حسیب کی فون کال پر واجد کے گھر داخل ہو گئے اور واجد سمیت اس کے تین بھائیوں کوبغیر ورانٹ گھر میں داخل ہو کر تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے تھانہ سٹی لے آئے جہاں آ کر چاروں نوجوانوں کوبھر پور تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس دوران دوپارٹیوں کو تھانہ طلب کرلیا گیا۔

متاثرہ شخص نے تشدد کا شکار نوجوان واجد کے اہلخانہ کی جانب سے بیٹوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی وجہ پوچھی گئی تو اہلکاروں نے بتایا کہ آپ کی مخالف پارٹی نے ہم کو 10ہزار روپے دئیے ہیں جس کی وجہ سے ہم نے آپ کے بیٹوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے اگر آپ مخالف پارٹی پر تشدد کروانا چاہتے ہیں تو 15ہزار روپے دیں۔

بعد ازاں دونوں پارٹیوں سے نذرانہ لینے کے بعد آئندہ لڑائی نہ کرنے کی ہدایت کرکے چھوڑ دیا گیا ، واجد کے اہلخانہ نے ڈی پی او جہلم عامر خان نیازی سے بے گناہ نوجوانوں پر پیسے لے کر تشد دکرنے والے اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button