کالم و مضامین

منگلا دریا کے ریڈ زون میں کرش پلانٹوں کی بندش کیوں ضروری ہے؟

تحریر: آصف محمود چوہدری

منگلا ڈیم کو پورے ملک میں نمایاں اہمیت حاصل ہے یہ ڈیم 1964ء میں بنایا گیا جس کا مقصد آب پاشی تھا لیکن اس ڈیم سے ہزار میگاواٹ بجلی بھی بنائی جانے لگی، اس وقت چودہ سو میگا واٹ بجلی حاصل کی جارہی ہے جس کو بھی بڑھایا جا رہا ہے کام جاری ہے، انیس سو بانوے کے سیلاب سے بہت بڑی تباہی ہوئی جانی و مالی نقصان ہوا اس کے بعد منگلا دریا میں کریش پلانٹ لگنا شروع ہو گئے۔

اس وقت بھی راقم نے آواز اٹھائیں کے منگلا ڈیم سے قریب ترین 20 کلومیٹر کا علاقہ ریڈ زون ہے، واپڈا منگلا کی طرف سے بھی نشاندہی کی جاتی رہی لیکن کریش پلانٹ لگانے کا سلسلہ تیز ہوتا چلا گیا، اس وقت منگلا دریا میں 35 کے قریب کریش پلانٹ لگ چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد ریڈ زون ایریا میں ہے، 3 کرش پلانٹ تو منگلا ڈیم سے صرف دو کلو میٹر فاصلے پر لگائے گئے ہیں دیگر کہیں بھی ریڈزون میں لگائے گئے ہیں جن کو بند کرنے کا حکم سپریم کورٹ نے دیا۔

پہلے ہی کرش پلانٹ ادارہ تحفظ ماحولیات کے تحت قرضہ قواعد و ضوابط سے ہٹ کر زیادہ تعداد چلائی جا رہی تھی صرف 3 یا چار کرش پلانٹ مالکان نے ادارہ تحفظ ماحولیات سے ا این او سی لے رکھا تھا باقی قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے چل رہے تھے اسکول کالج ٹائم میں کرش پلانٹ چلائے جاتے رات کو پابندی کے باوجود ساری رات کام جاری رہتا علاقے کی سڑکیں تباہ و برباد ہو گئی۔

منگلا دریا میں ریڈ زون ایریا میں 50 سے 70 فٹ گہرائی میں مٹیریل اٹھایا گیا جس سے دریا نے کٹاؤ شروع کر رکھا ہے، واپڈا منگلا نے بھی ریڈ زون ایریا سے میٹریل اٹھانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے، اب اخبارات میں ریڈ زون میں قائم کرش پلانٹ مالکان حقائق کے برعکس اپیل شائع کروا رہے ہیں کیا ملک کی قیمتی املاک کو نقصان پہنچانا درست ہے اور آبادی کو خطرے میں ڈالنا درست ہے؟؟

عوام علاقہ نے انتظامیہ اور دیگر ارباب اختیار سے پرزور مطالبہ کیا ہے کے ریڈ زون میں لگے کرش پلانٹ کسی صورت چلنے نہ دیئے جائیں اور ان کی مشینری بھی فوری طور پر اٹھائی جائے اور ان کی بجلی بحال نا کی جائے تاکہ منگلا ڈیم اور گردونواح کی آبادی محفوظ رہ سکے عوام علاقہ کی اکثریت نے کہا ہے منگلا دریا ریڈ زون سے باہر قواعد و ضوابط پورے کر کے اگر کریش پلانٹ چلائے جائیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوگا لیکن دریا کے ریڈ زون سے کرش پلانٹ کا خاتمہ بہت ضروری ہے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button