کالم و مضامین

کہانی ایک انقلابی چوہے کی

تحریر: محمد امجد بٹ

کسی جنگل میں ایک چوہا رہا کرتا تھا۔چوہا ایک دن بیمار ہو گیا۔ نقاہت کی وجہ سے اسکا چلنا پھرنا بھی محال ہو گیا۔ چوہا شدید گرمی میں گرتا پڑتا اپنے علاج کے لئے جنگل کے حکیم کے پاس پہنچا ۔جنگل میں کوئی ایم۔ بی۔ بی۔ ایس ڈاکٹر تو ہوتے نہیں جو جانوروں کا علاج معالجہ کریں۔ ظاہر ہے جنگل میں بھی حکیم کوئی جانور ہی ہو سکتا ہے ۔اس جنگل کے بیماروں کا حکیم’’ الو ّ ‘‘ تھا۔( اب یہ نہ سمجھ لینا کہ جہاں کوئی ایم۔بی۔بی۔ ایس ڈاکڑ نہ ہو وہاں الوّ ہی حکیم ہوتے ہیں)۔

چوہا الوّ حکیم کے پاس پہنچا تو حکیم الوّ نے چوہے کا طبی معائنہ کیااور انکشاف کیا کہا اسے تو ’’مرض الموت‘‘ ہے۔ حکیم نے چوہے سے کہا:’’ بس اب تمہاری زندگی کے دن گنے جا چکے ہیں۔‘‘چوہا یہ سن کر نہایت افسردہ ہوا۔ حکیم الوّ نے اسکو دلاسہ دیا اور ہمدردی جتلاتے ہوئے کہا:

میاں چوہے ! تم فکر مت کرو۔ موت تو ہر نفس کو ایک دن آنی ہے۔ تم تو خوش قسمت ہو کہ تمھیں پتا چل گیا ہے کہ تمھارے جانے کا وقت قریب ہے ورنہ کتنے ہی چوہے خوابِ غفلت میں پڑے رہتے ہیں اور ایک دن اچانک ہی فرشتہ اجل آ کر ان کی روح قبض کر لیتا ہے۔ انکو اپنی دنیاوی زندگی میں کوئی موقع ہی نہیں ملتا کہ وہ کوئی اچھائی اپنے نام کرتے اور مخلوقِ خدا کے لئے کوئی نیک کام کر جاتے۔ تم تو قسمت کے دھنی ہو کہ تمہیں اپی زندگی کا اختتام نظر آ رہا ہے۔ چاہو تو اس موقع کو غنیمت جان کراس سے فائدہ اٹھاؤ اوراپنا نام چوہوں کی تاریخ میںسنہری حروف سے رقم کر دو۔

چوہے نے یہ سنا تو اسکی عقل میں کچھ بات آ گئی ۔اس نے حکیم الوّ کا شکریہ ادا کیا اور وہاں سے واپس چل نکلا۔واپسی کی راہ لیتے ہوئے چوہے نے چوہوں کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھانے کی ٹھان لی۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ اب وہ عام چوہا نہیں رہے گا بلکہ اب وہ اپنی زندگی کا اختتام ایک ’’ انقلابی چوہے‘‘ کے طور پر کرے گا کیونکہ اب تو اسکی زندگی کے دن بھی تھوڑے رہ گئے ہیں۔چوہا انقلابی سوچوں میں گم واپس آ رہا تھا کہ راستے میں اسکی مڈبھیڑایک جنگلی بلی سے ہو گئی۔

بلی نے چوہے کو دیکھتے ہی اس کو اپنے پیٹ کا لقمہ بنانے کے لئے جوں ہی حملہ کیا تو چوہے نے انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے آؤ دیکھا نہ تاؤاس نے لکڑی کا ایک ڈنڈا اٹھایا اور لگا پھر بلی کو پیٹنے۔بلی اس کایا پلٹ کو دیکھ کر بھونچکی رہ گئی، جو چوہا کل تک اسکی آواز سے خائف رہتا تھاآج وہی چوہا اسکی یہ درگت بنا رہا ہے۔ بلی کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر معاملہ کیا ہے۔ بلی نے سوچا معاملہ کچھ بھی ہو میری خیر اسی میں ہے کہ میں یہاں ست بھاگ جاؤں۔ بلی نے فوراََ دم دبائی اور وہاں سے بھاگ نکلی۔چوہا اپنے پہلے انقلابی قدم پہ بہت خوش ہوا۔ اس نے سوچا میں آج تک بلاوجہ اس کمبخت سے ڈرتا رہا۔ یہ تو میرے آگے کچھ بھی نہیں ہے۔

بلی کو بھگانے پر چوہے کا حوصلہ مزید بڑھا تو سینہ چوڑا کر کے آگے بڑھنے لگا۔اب یہ اپنے آپ کو چوہا نہیں بلکہ شیر سمجھنے لگا تھا۔چوہے کی انقلابی سوچ نے اسے چوہوں کی دنیا سے نکال کر شیروں کی دنیا میں پہنچا دیا تھا۔چوہے نے آگے بڑھنا شروع کیا تودیکھتا کیا ہے کہ آسمان سے ایک باز اسکو پکڑنے کے لئے جھپٹ رہا ہے۔ چوہے نے باز کا حملہ ناکام بناتے ہوئے اپنے آپ کو سنبھالا اورایک پتھر اٹھایا اور دے مارا باز کے منہ پر، پتھر لگنے سے باز کی ایک آنکھ پھوٹ گئی۔وہ تکلیف سے چلاتا ہوا جان بچا کر اڑ گیا۔

اب تو چوہے کو یقینِ کامل ہو چکا تھا کہ اب وہ چوہا نہیں بلکہ شیر ہے۔اس نے سمجھ لیا کہ اسکی اب تک کی زندگی تو بیکار گزری۔ اس نے سوچا کہ میں تو صرف قد میں ہی چھوٹا ہوںورنہ میری ہمت کے آگے کیا مجال ہے کسی کی کہ مجھ سے ٹکر لے سکے۔ چوہا اس انقلابی سوچ کو لیکر ساتویں آسمان تک پہنچ چکا تھا۔ اسکی نظروں میں اب تو جنگل کا بادشاہ شیر بھی بکری نظر آ رہا تھا۔

چوہا انہی سوچوں میں گم جا رہا تھا کہ اچانک پیر پھسلاتو ایک گہرے گڑھے میں جا گرا۔سر ایک پتھر سے ٹکرایا تو خون بہنے لگا۔فوراََ واپس پلٹا تاکہ حکیم الوّ سے علاج کروا لے۔ چوہا جب حکیم الّو کے پاس پہنچا توسورج غروب ہو چکا تھا۔حکیم نے زخمی چوہے کی مرہم پٹی شروع کر دی۔ دورانِ علاج الّو نے چوہے کو بغور دیکھا تواسکو سمجھ آیا کہ دوپہر کے وقت اس نے چوہے کے مرض کی جو تشخیص کی تھی وہ تو غلط تھی ۔چوہے کو تو معمولی بخار ہے جو دو تین خوراکوں سے ٹھیک ہو سکتا ہے۔ حکیم الّو کو اپنی تشخیص پہ بہت شرمندگی ہوئی اس نے چوہے سے کہا!

مجھے افسوس ہے کہ تمھیں یہ گہرا زخم لگا۔ اس کو بھرنے میں کم از کم ایک ہفتہ تو لگ ہی جائے گااور اس دوران تم کم سے کم حرکت کرنا تاکہ یہ زخم اچھی طرح مندمل ہو جائے۔چوہا یہ سن کر افسردہ ہو گیا کہ ایک تو موت قریب ہے اور پھر اس نے تو ابھی چوہوں کی تاریخ میں اپنے آپ کو ایک انقلابی چوہا بھی تو ثابت کرنا ہے۔ اس نے سوچا کہ اب تو انقلاب بیچ میں ہی رہ جائے گا ناں۔۔۔؟؟؟؟

ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ حکیم الّو بولا!میاں چوہے تم دل چھوٹا مت کرو۔ میرے پاس تمھارے لئے ایک بہت اچھی خبر ہے۔ تم تو جانتے ہی ہو کہ میں سورج کی روشنی میں اچھی طرح دیکھ نہیں پاتااور یہی وجہ ہے کہ میری دوپہر والی تشخیص غلط تھی۔تمھیں کوئی ’’ مرض الموت‘‘ نہیں ہے بلکہ معمولی سا بخار ہے اور یہ ایک دو دن میں ٹھیک ہو جائے گا۔ چوہا یہ سن کر بہت خوش ہوا اورحیکم الّو کا شکریہ ادا کر کے واپس لوٹا۔ رات کافی تھی راستے میں اسے ایک چھوٹا سا بچھو نظر آیا۔

چوہے نے ایک لمحہ کے لئے سوچا کہ اس ظالم کیڑے کو مار بھگائے مگر فوراََ ہی اسے بچھو کا خطرناک زہر اور نوکیلا ڈنک یاد آ گیا۔ انقلابی سوچ کی بجائے خوف کی ایک سردلہر چوہے کی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی وہ سکتے کے عالم میں آ گیا کیونکہ اسے اب یقین ہو چکا تھا کہ وہ اب انقلابی چوہا نہیں رہا کیونکہ اسکی زندگی کے بہت دن ابھی باقی ہیں اس لئے اس نے انقلابی چوہے کے بجائے صرف چوہا رہنے پر ہی اکتفا کر لیا تھا۔اسی دوران بچھو خراماں ، خراماں اسکے پاس پہنچ چکا تھامگر اب چوہا اسکا مقابلہ کرنے سے قاصر تھا بچھو نے اطمینان سے چوہے کو اپنے نوکیلے ڈنک کا شکار کر کے اسکی امیدوں سمیت اسکی زندگی کاخاتمہ کر دیا۔

اس کہانی میں جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ غلط وقت پر یا غلط ماحول میں قابل سے قابل انسان بھی حقیقت حال سمجھنے میں غلطی کر سکتا ہے۔ انسان کو اپنے اہم فیصلوں پر کسی دوسرے اور بہتر وقت نظر ثانی ضرور کر لینی چاہیئے۔ انسان کو اپنے اندر تبدیلی لانے کے لئے آخری وقت کا انتظار نہیں کرنا چاہیئے۔ جو انسان اپنی اوقات سے باہر ہو جائے وہ آخر کارنقصان اٹھاتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button