کالم و مضامین

ضلع جہلم کا پختون نوجوان اور لیڈی ڈیانا کا انجام

تحریر: اسامہ شرافت

گاڑی لاہور کی معروف شاہراہ پر ٹریفک جام میں پھنس چکی تھی۔ ٹیوٹا کار کی پچھلی نشست پر ایک گوری براجمان تھی۔ راہگیر اس کو دیکھ کر سلام کر رہے تھے۔ وہ خاتون گاڑی کی کھڑکی سے بچوں جیسی معصومیت سے ہاتھ ہلا کر جواب دے رہی تھی جبکہ دیگر سوار خواتین اس کو ایسا کرنے سے روک رہی تھیں۔ وہ کوی عام خاتون نہ تھی۔ گاڑی کا رخ لاہور ماڈل ٹاؤن کی جانب تھا!

یہ انگلستان کے رائل برامپٹن اسپتال کی انتظار گاہ تھی جہاں دو خواتین بات چیت میں مصروف تھیں۔ گفتگو کا اختتام ایک خوبصورت لڑکے کی آمد سے ہوا یہ لڑکا جونیئر جراح (سرجن) ڈاکٹر حسنات تھا جو ایک مریض کے ہمراہ خاتون کو اس کی حالت بارے آگاہ کرنے آیا تھا۔

طبیب جب خاتون کو اعتماد میں لے چکا تو خاتون نے عیادت کے لئے آئی ساتھ کھڑی سہیلی کا تعارف کروایا حسنات نے لاپرواہی سے ایک نظر اس کی جانب دیکھا رسمی سر ہلایا اور واپس پلٹ گیا۔ جونیئر ڈاکٹر کا رویہ بتا رہا تھا کہ جیسے اس کو وہ خاص اہمیت نہیں دیتا۔ وہ کوی عام لڑکی نہ تھی۔ ڈاکٹر کا یہ بے اعتنا رویہ برطانیہ کے شاہی خاندان کی بہو ڈیانا نے کبھی زندگی میں تصور بھی نہ کیا تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا کہ جب ویلز کی شہزادی ڈیانا اپنا دل پنجاب کے ضلع جہلم سے تعلق رکھنے والے ایک پختون نوجوان حسنات خان پر ہار بیٹھیں۔ ڈاکٹر حسنات کی شخصیت و خوبصورتی واقعی سحر انگیز تھی اور شہزادی اس سحر میں جکڑی جا چکی تھی۔ وہ دو لحظہ اپنی جگہ ساکت کھڑی اس شخص کو انتظار گاہ سے باہر جاتا دیکھتی رہی!

اسپتال سے روانہ ہوتے وقت لیڈی کے ذہن میں بس وہی لمحہ سوار تھا۔ ”ایلیویٹر“ میں کھڑی شہزادی خود کو بہت تنہا محسوس کر رہی تھی۔

میں ابھی اپنی زندگی کے ایک شاندار ( ”ونڈرفل“ ) شخص سے ملی ہوں شہزادی نے اپنے ساتھ کھڑی سہیلی کو کہا اس کی گہری بھوری آنکھیں ان میں بس ڈوبا جا سکتا ہے۔

اس شناسائی کے بعد اکثر وہ آدھی رات کے قریب کیمرے کی آنکھ سے بچتی بچاتی مریض کی عیادت کے بہانے اسپتال ڈاکٹر حسنات سے ملا کرتی ان ملاقاتوں میں دونوں گہرے دوست بن چکے تھے۔ دوستی کا یہ سلسلہ جلد ہی دو طرفہ محبت میں بدل گیا ڈاکٹر حسنات شہزادی کو ڈیٹ پر لے جانے کا کہنے سے ڈر رہا تھا آخر وہ ہونے والی ملکہ تھی! حسنات نے ہچکچاتے ہوئے ”ویلز کی شہزادی“ کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ یہ ملاقات کا تیسرا ہفتہ تھا۔ شہزادی کے ”ہاں“ کہنے پر وہ ششدر ہی تو رہ گیا تھا۔

موٹر کار سڑک پر فراٹے بھر رہی تھی، منزل ”سٹینڈفرڈ اپون ایون لندن“ تھی یہاں حسنات کے انکل کی رہائش گاہ تھی۔ دونوں دل میں ایک دوسرے کے لئے عجیب جذباتی کشش محسوس کر رہے تھے۔ انکل کے ہاں وہ کچھ کتب لینے جا رہے تھے یہی پہلی ”ڈیٹ“ تھی۔ جب گاڑی کی اگلی سیٹ پر براجمان شہزادی کی ملاقات حسنات کے انکل عمر اور آنٹی جین سے ہوئی۔ حسنات کے گھر والوں سے شہزادی کا یہ پہلا تعارف تھا۔

وقت تیزی سے گزر رہا تھا دونوں اپنی محبت کو رشتہ ازدواج میں قید کر دینا چاہتے تھے۔ شہزادی حسنات کی بیٹی کی ماں بننے کی شدید متمنی تھیں۔ وہ اس کا اظہار بھی کر چکی تھیں۔ شہزادہ چارلس کے ساتھ ان کی زندگی اداسی میں گزر رہی تھی حسنات کے آنے کے بعد جیسے ”ڈیانا“ نے اپنی خوشیوں کو واپس پا لیا تھا۔ عدالت میں لیڈی ڈیانا اور چارلس کے مابین طلاق ہو چکی تھی۔

حسنات ایک زیرک و مدبر نوجوان واقع ہوا تھا۔ وہ ڈیانا کو اپنی زوجیت میں لینے پر آمادہ تو دکھائی دیتا تھا البتہ اس کا ذہن بہت سے خدشات سے بھرا پڑا تھا۔

شہزادی کو وہ پہلے ہی واضح کر چکا تھا کے اس کے دین دار گھرانے اور ڈیانا کے شاہی خاندان کے لئے بھی ایک غیر مذہب سے نکاح قابل قبول نہ ہو گا۔ باوجود اس کے ؛ بیس فروری 1997 وہ دن جب لیڈی ڈیانا انابیل گولڈ سمتھ اور بھتیجی کسیما کے ہمراہ سمتھ کے نجی جیٹ بوئنگ 757 پر سوار ہو کر آخری دفعہ پاکستان جا پہنچیں یہاں مشہور کرکٹر عمران خان کے ساتھ انابیل کی بیٹی جمائما گولڈ سمتھ کی شادی ہو چکی تھی دنیا یہی جانتی تھی کہ برطانوی شہزادی عمران خان کے اسپتال کے لئے چندا اکٹھا کرنے آئی ہیں مگر پس پردہ ان کا مقصد حسنات کے گھر والوں کو رشتہ کے لیے قائل کرنا تھا!

گاڑی ٹریفک جام سے نکل کر ماڈل ٹاؤن میں واقع ایک بنگلہ میں داخل ہو چکی تھی۔ گھر کی چند خواتین اور مرد شدت سے اس گاڑی کی آمد کے منتظر دیکھائی دیتے تھے کار سے چار خواتین برآمد ہوئیں جن میں تین خواتین عمران خان کی دو بہنیں علیمہ، رانی خانم اور بیوی جمایا گولڈ سمتھ تھیں اور چوتھی خاتون برطانوی شہزادی ڈیانا تھیں جو اس گھر کے باسیوں سے اپنا محبوب مانگنے آئی تھیں استقبال کے لئے کھڑے بہت سے چہروں سے وہ پہلے سے آشنا تھیں۔ وہ اس سے قبل لندن میں ان سے پہلے بھی مل چکی تھیں ان میں سے ایک حسنات کی نانی اماں بھی تھیں ان کے ساتھ شہزادی کا تجربہ زیادہ خوشگوار نہ رہا تھا۔ شہزادی انہیں متاثر کرنے کے لئے اپنے گھر میں روایتی مشرقی خواتین جیسا لباس زیب تن کیے بطور رسم ٹی سینڈوچ بنا کر لائی تھی۔ ”ٹی سینڈوچ بنانے میں وہ ماہر تھیں۔

شہزادی نے آنٹی جین کو کہا تھا کہ نانی آپا کو اردو ترجمہ کر کے بتائیں کہ یہ میں نے بنایا ہے۔ نانی آپا سینڈوچ کھول کر حقارت سے دیکھتی رہیں کہیں اس میں کوی حرام شے تو نہیں؟ اس تلخ تجربے کے بعد بھی شہزادی مایوس نہ تھیں وہ اپنے محبوب کو حاصل کرنے کے لئے سات سمندر پار سے پاکستان آئی تھیں اور حسنات کے گھر بغیر محافظین کے یعنی اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر پہنچی تھیں۔ گھر والوں نے تپاک سے ان کا استقبال کیا اچھی مہمان نوازی کی مگر شہزادی کے شدید اصرار کے باوجود انہیں کوی مثبت جواب نہ دیا علیمہ خان نے موقع کی نزاکت جان کر شہزادی کو وہاں سے جانے کے لئے کہا۔

جمائما کے لئے یہ انکار حیران کن نہ تھا وہ شہزادی کو یہ بات بتا چکی تھیں کہ ایک رجعت پسند پختون گھرانے کے لئے ایک عیسائی العقیدہ گوری کو بہو بنانا بدترین خواب کے مترادف ہو گا۔ شہزادی نے اس سے قبل بھی برطانوی شاہی خاندان ایجنسیوں اور چرچ کی دشمنی مول لے کر پاکستان کے دو دورے کیے تھے۔ تب بھی انہیں اس بار کی طرح حسنات کے گھر والوں کے سامنے بے بسی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

شہزادی لندن واپس آ کر زیادہ تر وقت اپنے بچوں ہیری اور ولیم کے ساتھ گزارنے لگیں ڈاکٹر حسنات اپنے کام کو لے کر بہت حساس تھے وہ اکثر اپنے کام میں محو رہتے اور فارغ اوقات سو کر بسر کرتے یہ مصروفیت ان کے درمیان کافی دفعہ باعث رنجش بھی رہی تھی۔ ڈاکٹر حسنات اس شادی سے پیچھے ہٹتے جا رہے تھے وہ میڈیا سے دور ایک عام انسان کی طرح زندگی گزارنا چاہتے تھے۔ دوریاں کافی بڑھ چکی تھیں۔ شاید قسمت کے فیصلے کچھ اور تھے۔

ایک سفر کے دوران لیڈی ڈیانا کی ملاقات ڈوڈی محمد الفائیڈ نامی امیر زادے سے ہوئی۔ شہزادی اپنے بچوں کے ساتھ کبھی اس کے نجی یارٹ پر وسط سمندر دیکھی جاتیں تو کبھی ساحل کنارے۔ شہزادی نے حسنات کے فون کا جواب دینا بھی بند کر دیا تھا۔ حسنات نے اس دوران شہزادی سے ایک ملاقات کی جس میں لیڈی ڈیانا نے اس تعلق کا خاتمہ کر دیا۔ حسنات کے لئے یہ سرد مہری غیر متوقع تھی کہاں وہ شہزادی اس کو پانے کے لئے سات سمندر پار کا سفر کر آئی تھی اور یہاں اچانک سے یہ نظر اندازی؟ ڈاکٹر حسنات نے لیڈی ڈیانا سے رابطہ کی ایک اور کوشش کی مگر نمبر نمبر بند پایا ویسے بھی شہزادی اپنا نمبر خفیہ ایجنسیوں کی جاسوسی سے بچنے کے لئے ہر چھ ماہ بعد بدل لیا کرتی تھیں۔

وہ الفائیڈ کے ساتھ معاشقہ حسنات کو جلانے کے لیے چلا رہی تھیں؟ یہ راز وہ اس بدقسمت دن اپنے ساتھ ہی لے کر دفن ہو گئی جب وہ محمد الفائیڈ کے ساتھ ایک کار حادثہ میں دار فانی سے کوچ کر گئیں۔

شہزادی کی موت نے بہت سے سوالات کو جنم دیا جن کے جوابات آج تک نہ مل سکے حسنات آج بھی خاموش ہے۔ الفائیڈ کے والد برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئیسکس کو اپنے بیٹے کا قاتل کہتے ہیں اور اس بات کو بھی دہراتے ہیں کہ شہزادی کے پیٹ میں الفائیڈ کی نسل پل رہی تھی۔ البتہ ہمسفر روزا مونکٹن اس بات کی تردید کرتی ہیں۔ ان کے مطابق موت سے چند دن قبل پیرس سفر کے دوران وہ اکٹھے تھے اور ڈیانا حالت حیض میں تھی۔

ڈاکٹر حسنات پولیس کے سامنے بیان کرتے ہیں کہ انہیں شہزادی کو کھونے کا غم ہے۔ آج اگر وہ حیات ہوتیں تو ہم اچھے دوست ہوتے وہ نہیں جانتے کہ شہزادی کسی تعلق میں تھیں یا نہیں البتہ ڈیانا نے انہیں کمال مہارت سے میڈیا اور بہت سی معلومات سے بچائے رکھا جو کہ یقیناً ان کے لئے باعث خطرہ ہو سکتی تھیں۔

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button