کالم و مضامین

سالٹ مائن کھیوڑہ میں سیاحت کا زوال

تحریر: قاضی عبدالرؤف معینی

دنیابھرمیں سیاحت ایک اہم صنعت کا درجہ حاصل کر چکی ہے بہت سے ممالک نے سیاحت کو فروغ دے کر اس سے زر مبادلہ حاصل کرنے کا بڑا ذریعہ بنا لیا ہے۔ سیاحت ملکی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے لیکن بدقسمتی سے کرہ ارض پر یہ خوبصورت خطہ پاک ابھی تک سیاحوں کی جنت نہیں بن سکا۔وجہ یہ ہے کہ سیاحت کے فروغ کے لیے جن بنیادی اقدامات کی ضرورت ہے حکومت ان سے غافل ہے۔

کیا یہ بڑا سانحہ نہیں کہ اس بار ملکی اور غیرملکی سیاح ایشیاء کی دوسری بڑی کان نمک، طلسمی رنگ اپنے غاروں میں سمیٹے بڑے ارضیاتی عجوبہ اور سیاحتی نقطہ نظر سے پر کشش مقام کی سیاحت سے محروم رہیں گے اور اگر جانے کی کوشش کریں گے تو خجل خوار ہوں گے کیونکہ کان نمک تک لے جانے والی اکلوتی رابطہ سڑک جو پہلے بھی کبھی مناسب نہیں رہی اب مکمل بربادی کا نقشہ پیش کر رہی ہے۔

دنیا بھر سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں سیاح جوق در جوق اس عظیم سیاحتی مرکز کے دلفریب نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے آتے تھے۔ مقامی آبادی کا روزگاراور خوش حالی بھی اس سے وابستہ تھی اور حکومت کا خزانہ بھی بھر رہا تھا۔ اب سیاحوں کی تعداد کم ہورہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس معاملہ کو حل کرنے میں سنجیدہ ہیں یا نہیں۔

نمک کی یہ قدیم کان ضلع جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان میں واقع ہے جو وفاقی دارلحکومت سے 160 کلومیٹراور لاہور سے 250 کلو میٹر دور ہے۔ پنڈدادن خان انٹر چینج سے جہلم شہر اور کان نمک کی طرف جانے والی سڑک انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔یہ سڑک آزاد کشمیر کو وسطی پنجاب اورملک کے دوسرے شہروں سے ملا کرمعاشی انقلاب لا سکتی ہے لیکن افسوس اس کی اہمیت کے باوجود کسی بھی دور حکومت میں اس پر توجہ نہیں دی گئی۔

تاریخی مقامات سے مالامال کوہستان نمک ایک بڑا سیاحتی مرکز بن کردنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ حاصل کر سکتا ہے۔سالٹ رینج کا یہ پہاڑی سلسلہ پنڈدادن خان کے شمال سے لے کر کالا باغ تک پھیلا ہوا ہے۔ تاریخی سیاحتی مرکز قلعہ نندنا، کٹاس مندر اور دیگر سیاحتی مراکز اس علاقہ میں واقع ہیں۔ حیرت انگیز حد تک خوبصورت یہ علاقہ حکمرانوں کی بے حسی کی نذر ہوتا جا رہا ہے۔

تاریخی مقامات کو محفوظ کرنے کی سکیمیں تو بنتی رہیں لیکن عمل درآمد نہ ہو سکا۔ متعددبارسابقہ صوبائی حکومت کی توجہ اس علاقہ کی سیاحتی اہمیت اور اس کی ترقی کی طرف مبذول کراوئی گئی لیکن سابق صوبائی حکومت نے بڑی مہارت سے اس علاقہ کو محروم رکھا اور ایک روپیہ تک اس علاقہ کی ترقی کے لیے مختص نہ کیا۔

بھلا ہو سابق وفاقی وزیر جناب فواد حسین چوہدری صاحب کا جوللِہ جہلم ڈیول کیرج وے کی صورت میں بڑا منصوبہ منظور کروانے میں کامیاب ہوگئے۔ کام انتہائی تیزی سے شروع ہوا اور مظلوم تحصیل پنڈدادن خان کے عوام شادیانے بجا ہی رہے تھے کہ حکومت کی تبدیلی ہو گئی اور کام ٹھپ ہوگیا۔ شنید ہے کہ امسال فنڈ جاری نہیں ہوئے اور شاید ہوں بھی ناں۔ مسلم لیگ ضلع جہلم کی قیادت بھر پور کوشش جاری رکھے ہوئے ہے لیکن فی الحال دال گلتی نظر نہیں آتی۔

گزشتہ دنوں وفاقی وزیر احسن اقبال صاحب نے کمال مہربانی فرمائی، موٹروے سے باہر تشریف لائے جہاں انہیں اس عظیم منصوبہ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے مدد کا وعدہ تو کیا ہے دیکھیں اب کیا بنتا ہے۔وفاقی وزیر محترم سے اگراس بد نصیب سڑک پر چند کلومیٹر سفر کی درخواست کی جاتی تو جناب کو مسئلہ کی شدت کا بھر پوراندازہ ہوتا۔

حکومتوں کی تبدیلی کے بعد ان کے دور میں شروع ہونے والے عوامی فلاحی منصوبوں کو روک دینے کی رسم کو بند ہونا چاہیے، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے نفرت اور محرومی کا کلچر فروغ پاتا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں ہوا کہ اس منصوبہ کے فنڈز کہیں اور منتقل ہو گئے ہوں۔ وزیر اعظم پاکستان سے تحقیق اور فوری طور پر فنڈز جاری کرنے کے درخواست ہے۔

ضرورت اس امرکی ہے کہ اس سڑک کی تعمیر کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کی جائے کیونکہ جیسے ہی موسم خوشگوار ہوگا سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں کے لاکھو ں طلبا اور طالبات کان نمک کا رخ کریں گے۔ اگر یہ سڑک مکمل نہ ہوئی توسیاحوں کو بہت مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سیاحت کا فروغ اپنی جگہ اس کے علاوہ عوام جن مشکلات سے دوچار ہے ان کو احاطہ تحریر میں نہیں لایا جا سکتا۔منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہو رہا ہے۔ مسافروں کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کے انجر پنجر ہل گئے ہیں۔ طلبا و طالبات کا تعلیمی اداروں میں اور مریضوں کا ہسپتال پہنچنا ناممکن ہو چکا ہے۔ گردو غبار سے لوگ سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت اس مسئلہ کا فوری حل تلاش کرے اور ضلع جہلم کے عوام کی محرومیوں کا سدباب کرے۔

پاکستان کے قیام میں ضلع جہلم کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے دست راست راجہ غظنفرعلی خان صاحب کا تعلق اسی مردم خیز خطہ سے تھا۔یہ شہیدوں اور غازیوں کی سر زمین ہے اس دھرتی کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button