جہلم

علاقائی صحافی مزدور جیسے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ ڈاکٹر سہیل امتیاز، چوہدری عابد محمود

جہلم: صحافت ریاست کا چوتھا ستون ، قلم قرطاس کا مزدور آج بھی رضا کارانہ کام کرنے پر مجبور ، نسل در نسل اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے باوجود علاقائی صحافی مزدور جیسے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں ، ریاست کے چوتھے ستون کی بنیادی اکائی کے حقوق سلب کرنا ظلم و زیادتی کے مترادف ہے۔

ان خیالات کا اظہار جہلم پریس کلب کے چیئرمین ڈاکٹر سہیل امتیاز خان اور صدر الیکٹرانک میڈیا چوہدری عابد محمودنے اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اداروں میں کارکن صحافیوں کو عارضی بنیادوں پر رضا کارانہ طور پرخدمات سرانجام دینے کی ذمہ داریاں سونپتے ہیں لیکن صحافیوں کو کسی قسم کی مراعات نہیں دی جاتیں اس طرح علاقائی صحافیوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی صحافیوں کی کم از کم تنخواہ ایک مزدور کی ماہانہ اجرت کے برابر طے ہونی چاہیے جس سے نہ صرف زرد صحافت کاخاتمہ ہوگا بلکہ ریاست کا چوتھا ستون بطور صنعت ابھر کر اہم مقام حاصل کرلے گا۔موجودہ حالات پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے لئے کسی تباہی سے کم نہیں ، جس کی بنیادی وجہ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے مالکان صحافیوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ اپنائے ہوئے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ مالکان کو علاقائی صحافیوں کے لئے مراعات دلوانے میں کردار ادا کریں تو پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ایک بڑی قوت بن سکتی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button